بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز) رائچور میں انجینئرنگ طالبہ مدھو پتار کی غیر فطری موت کے معاملے پر تحقیقات میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ پوسٹ مارٹم اور فورنسک سائنس لیاب رپورٹ ملنے کے بعد پتہ چلے گا کہ اس کا قتل ہوا ہے یا اس نے خود کشی کرلی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس معاملے کو سی آئی ڈی کے حوالے کردیا ہے، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر شرنپا کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم رائچور پہنچ گئی ہے۔ جس نے ملزم سدرشن یادو اور متوفیہ کے گھروں پر پہنچ کر تفصیلات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رائچور پولیس بھی سی آئی ڈی کا تعاون کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اب تک پوسٹ مارٹم اور فورنسک سائنس کی رپورٹ تحقیقاتی ٹیم کو نہیں ملی ہے۔ جس کے سبب اس بات کا اندازہ لگایا نہیں جاسکتا کہ اس کی موت فطری یا خود کشی، رپورٹ آنے کے بعد ہی اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو کئی اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اور تحقیقات کے مرحلے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ رائچور کی انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم مدھو 13 اپریل سے لاپتہ تھی۔ 16 اپریل کو پھندے سے لٹکی اس کی لاش برآمد ہوئی۔اس کی نعش پر زخموں کے چند نشان پائے جانے کا رشتہ داروں نے الزام لگایا تھا اور کہاتھاکہ یہ خود کشی کا نہیں بلکہ قتل کا معاملہ ہے۔ جس کی بنیاد پر مقامی پولیس نے سدرشن یادو نامی ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔ مدھو کی موت کے معاملے پر رائچور کے علاوہ ریاست بھر میں طلباء تنظیموں اور رضاکار اداروں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج درج کرایاتھا جس کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سی آئی ڈی کے حوالے کیا ہے۔